ﺯﻮﻴﻓ
ایک سکھ کی میت پر اس کی بیوی اپنے چھوٹے بیٹے کیساتھ کھڑی بین کر رہی تھی۔
وے توں اوتھے ٹر گیاں ایں جتھے دیوا ناں بتی
وے توں اوتھے ٹر گیا ایں جتھے منجھی ناں پیڑھی
وے توں اوتھے ٹر گیا ایں جتھے آٹا ناں روٹی
عورت کا بیٹا بولا “ماں، ابا کہیں پاکستان تو نہیں چلا گیا”۔
------------
ایک سردار نے کالج میں داخلہ لیا اور پہلے دن کلاس میں پروفیسر کلاس کو نصیحت کرتے ہوئے بولا “لڑکوں کو لڑکیوں کے ہاسٹل جانے کی اجازت نہیں ہے۔ اگر کسی نے پہلی دفعہ لڑکی کو چھیڑا تو اسے سو روپے جرمانہ ہو گا، دوسری بار دو سو اور تیسری بار تین سو”۔
یہ سن کر سردار بولا “سر، یہ پہلی، دوسری، تیسری بار کو چھوڑیں، یہ بتائیں پورے سال کا کیا ریٹ ہو گا”۔
---------------
ایک مریض ہسپتال میں داخل ہوا جس کے دونوں کان جلے ہوئے تھے۔ ڈاکٹر نے تجسس کے مارے پوچھا “تمہارے کان جلے کیسے؟”۔
مریض “دراصل میں اپنی قمیض استری کر رہا تھا کہ فون کی گھنٹی بجی اور میں نے فون کی بجائی استری اپنے کان کیساتھ لگا لی”۔
ڈاکٹر “لیکن دوسرا کان کیسے جلا؟”۔
مریض “کیا خیال ہے میں ایمبولینس کیلیے فون نہ کرتا”۔
........
ایک آدمی ہوٹل میں آیا اور اس نے تین کپ چائے کا حکم دیا۔ بیرے نے اس سے پوچھا آپ تو اکیلے ہو تو پھر تین چائے کیوں؟۔ آدمی بولا “میرے دو بھائی کراچی رہتے ہیں اور میں ان کیلیے دو چائے منگواتا ہوں تا کہ یہ لگے کہ ہم تینوں اکٹھے چائے پی رہے ہیں۔
یہ سلسلہ کافی دیر تک چلتا رہا۔ ایک دن آدمی نے دو کپ چائے آرڈر کی۔ بیرے نے سوچا شاید اس کے ایک بھائی کو کوئی حادثہ پیش آ گیا ہو گا اور وہ دنیا سے کوچ کر گیا ہو گا۔
بیرا “خیریت تو ہے پہلے آپ تین چائے کا حکم دیا کیا کرتے تھے مگر آج صرف دو کپ منگوائی ہے۔ آپ کے بھائی خیریت سے تو ہیں؟”۔
آدمی “فکر کی کوئی بات نہیں وہ دونوں خیریت سے ہیں۔ دراصل میں نے چائے پینا ترک کر دی ہے”۔